تھائی سیاسی بحران پر بین الاقوامی برادری کے ردعمل کا وقت آ گیا ہے، تھاکسن کے وکیل

بنکاک، 16 مئی/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

تھائی لینڈ کے سابق وزیر اعظم تھاکسن شناوترا کے وکیل رابرٹ ایمسٹرڈیم نے بنکاک میں مظاہرین پر تھائی حکومت کے پرتشدد کریک ڈاؤن کے خلاف بین الاقوامی برادری سے ردعمل ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی حالیہ رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز بنکاک کے مرکزی علاقے میں سرخ پوشوں (ریڈ شرٹس) کے مظاہرے پر تھائی فوج کی جانب سے اسلحے کے استعمال سے کم از کم 17 افراد کی ہلاکت اور 140 کے زخمی ہونے کی اطلاعات کی تصدیق ہو چکی ہے، زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ تین غیر ملکی بھی زخمی ہوئے، جن میں ایک فرانسیسی-کینیڈین صحافی بھی شامل ہیں جن کو تین گولیاں لگیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔

بنکاک میں واقعات کا مشاہدہ کرنے والے ایمسٹرڈیم نے کہا کہ بغیر کسی انتباہ کے غیر مسلح، پرامن مظاہرین پر آتشیں اسلحے کا استعمال “ایک انتہائی نامناسب ردعمل” ہے اور تھائی آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے علاقائی و عالمی رہنماؤں سے “مسلح افواج کی جانب سے تشدد کے فوری خاتمے اور جمہوری عمل کی واپسی کے حوالے سے ایک مشترکہ اعلان جاری کرنے” کا مطالبہ کیا۔

ایمسٹرڈیم نے کہا کہ “گزشتہ ماہ بنکاک کی سڑکوں پر کافی خون بہا، اور اب وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادر اپنا ردعمل ظاہر کرے۔” ایمسٹرڈیم نے کہا کہ تھائی حکومت نے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) اور انسانی جان کے احترام، بنیادی حقوق اور ریاست کی جانب سے اپنے شہریوں کے ساتھ سلوک کے آفاقی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔”

ایمسٹرڈیم نے کہا کہ “تھائی فوج کا حالیہ قدم شہریوں کی حفاظت اور انسانی جان کے احترام کی سنگین خلاف ورزی پر مبنی ہے، اور اس پر فوری و سخت ردعمل ظاہر کرنا چاہیے۔ آئی سی سی پی آر معاہدے کے تحت، اگر پولیس کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا جاتا ہے، تو فوج بنیادی انسان حقوق کی خلاف ورزی نہ کرنے اور عسکری آپریشنز کے دوران متناسب اقدام کے قانون کی تکمیل کی پابند ہے۔ تھائی لینڈ کی حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، اور ملکی تاریخ کے اس نازک دور میں اپنے اقدامات پر اسے جوابدہ ہونا چاہیے۔”

ذریعہ: ایمسٹرڈیم اینڈ پیروف

رابطہ: جیمز ٹی کائمر،

+1-917-355-0717

james.kimer@ksocialmedia.com