ورلڈ جی ٹی ایل نے ٹرینیڈاڈ کے سرکاری ادارے پیٹروٹرین کے خلاف ہرجانے کا سب سے بڑا دعویٰ دائر کر دیا

نیو یارک، 14 مئی/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

2 ارب امریکی ڈالرز کے دعوے میں مطالبہ میں کہا گیا ہے کہ پیٹروٹرین نے مشترکہ منصوبے ورلڈ جی ٹی ایل ٹرینیڈاڈ لمیٹڈ کے اثاثوں کو ہڑپ کر لیا ہے

ٹرینیڈاڈ کی تاریخ میں کسی بھی نجی یا سرکاری ادارے کے خلاف ہرجانے کا سب سے بڑا دعویٰ دائر کرنے والے ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ نے، عنقریب انتخابات کے باوجود، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی سرکاری کے ملکیتی ادارے (پیٹروٹرین) کے خلاف مشترکہ منصوبہ ادارے ورلڈ جی ٹی ایل ٹرینیڈاڈ لمیٹڈ میں اُس کے اثاثے ہڑپ کرنے کے خلاف امریکہ کی وفاقی ضلعی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ مقدمے میں 2 ارب امریکی ڈالرز سے زائد کے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ورلڈ جی ٹی ایل ٹرینیڈاڈ لمیٹڈ پوائنٹ-اے پیئر، ٹرینیڈاڈ میں پیٹروٹرین کے ایک ریفائنری میں واقع گیس-کو-مایع میں بدلنے والے ایک کارخانے کی تعمیر کر رہا تھا، جس میں 51 فیصد حصص ورلڈ جی ٹی ایل کے ماتحت ادارے ورلڈ جی ٹی ایل آف سینٹ لوشیا لمیٹڈ کے پاس اور 49 فیصد پیٹروٹرین کے پاس تھے۔ جب اسے بے دخل کیا گیا تو کارخانہ تحویل میں دینے کے لیے مکمل طور پر تیار تھا اور یہ مغربی نصف کرے میں پہلا کمرشل جی ٹی ایل کارخانہ ہوتا۔  

ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ کہتا ہے کہ وہ ابتدائی عوامی پیشکش میں وال اسٹریٹ کے تجزیہ کاروں کے اندازوں کے مطابق کاروباری منصوبے کی ممکنہ اہمیت کے برابر ہرجانہ چاہتا ہے۔

مقدمے میں ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ نے کہتا ہے کہ پیٹروٹرین نے ٹرینیڈاڈ کی حکومت کو مکمل آگاہ رکھتے ہوئے اور اس کی بھرپور رضامندی سے پلانٹ پر قبضے کے اپنے خفیہ منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔

ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ اور پیٹروٹرین نے 2005ء میں پیٹروٹرین کے منتخب کردہ مقام پر اُس کی ریفائنری کے اندر ایک گیس-سے-مایع بنانے کا پلانٹ نصب کرنے کا “منصوبہ جاتی معاہدہ” کیا، اور پیٹروٹرین نے اس مقام کو محفوظ قرار دیا تھا، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ مقام پیٹروٹرین کے سلفر ریکوری یونٹ سے عین ہوا کے رخ پر واقع تھا۔ پیٹروٹرین نے ورلڈ جی ٹی ایل کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ریفائنری کا مقام ماحولیاتی لحاظ سے بالکل محفوظ ہوگا۔

ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ کے نائب صدر برائے فنانس و آپریشنز جمیز کارلائل نے کہا کہ “منصوبے کے لیے سرمایہ کاری کے حصول کی خاطر پیٹروٹرین نے ہمیں کریڈٹ سویس سے متعارف کروایا، اور ہماری توجہ دلوائی کہ ٹرینیڈاڈ کے ایک سابق وزیر خزانہ اب اس بینک میں افسر ہیں۔ بینک نے 125 ملین امریکی ڈالرز کا قرضہ ادا کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔”

کارلائل نے کہا کہ “جب ہم نے “منصوبہ جاتی معاہدہ” کیا اس وقت پیٹروٹرین کے بیانات کے برعکس پیٹروٹرین کی ریفائنری میں کئی مقامات پر زہریلے سلفر اخراج کا ہو رہا تھا، جنہوں نے گیس-سے-مایع پلانٹ سمیت پوری تنصیب کو آلودہ کر رکھا تھا۔ کئی مرتبہ ہمیں پلانٹ کو خالی کرنا پڑا – متعدد بار تو یہ دورانیہ دو دو ماہ تک طویل ہو جاتا – جو نتیجتاً غیر متوقع اخراجات اور تعطل کا باعث بنتا اور اس نے کریڈٹ سویس کے ساتھ معاہدے کے مطابق تکمیل کی تاریخ تک کام مکمل کرنے کی ہماری صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا۔ پیٹروٹرین کی جانب سے صورتحال کو بہتر بنانے کی بیشتر یقین دہانیوں کے باوجود پلانٹ کی بندش اور اخراج کا یہ بدستور سلسلہ جاری رہا۔”

شکایت میں کہا گیا ہے پیٹروٹرین نے کریڈٹ سویس سے ورلڈ جی ٹی ایل ٹرینیڈاڈ کے قرضہ جات اندر ہی اندر خفیہ طور پر حاصل کیے، جس کی مشترکہ طور پر ضمانت دی گئی تھی، اور یہ بات اس امر کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ گیس-سے-مایع پلانٹ کا واحد مالک بننے کی خواہش رکھتا تھا۔

کارلائل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ “مزید برآں، جی ٹی ایل کی جوائنٹ وینچر کمپنی کے حوالے سے اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے مکمل غفلت برتنے کے ساتھ پیٹروٹرین ایسے اقدامات میں ملوث رہا جو اس منصوبے پر قابض ہونے کی اس کی منصوبہ بندی کو ظاہر کر رہے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ “اس میں کریڈٹ سویس کو 16.2 ملین ڈالرز کی بریکیج پریمیم کی متنازع ادائیگی شامل ہے تاکہ وہ قرضے کی ملکیت حاصل کر سکے، یہ کام خفیہ طور پر کیا گیا تاکہ ہمیں زر تلافی دینے کے بجائے وہ اثاثہ جات ہڑپ کرنے کے لیے بنیادی حقدار بن بننے کا اعلان کر سکے۔”

 مقدمے میں کی گئی شکایت کے مطابق ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ اور اس کے ماتحت ادارے ورلڈ جی ٹی ایل سینٹ لوشیا نے الزام لگایا کہ پیٹروٹرین نے سلفر مسئلے کے حل کے لیے ناگزیر اقدامات نہیں اٹھائے کیونکہ وہ منصوبے کی بروقت تکمیل میں ناکامی کا ہمہ وقت خواہاں تھا، تاکہ اس طرح کریڈٹ سویس کے ساتھ قرضہ جات کے معاہدے کے تحت منصوبہ نادہندہ قرار دیا جائے۔ یہ ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ کو زر تلافی کی مناسب ادائیگی کے بغیر پیٹروٹرین کو پورے منصوبے کے تمام اثاثہ جات کا وصول کنندہ بنا دیتا۔ استغاثہ کے مطابق یہ قدم نہ صرف فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بر خلاف ہے بلکہ دھوکہ دہی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

ورلڈ جی ٹی ایل ممکنہ دھوکہ دہی، غلط بیانی، معاہدے کی خلاف ورزی، نامناسب افزودگی، لاپروائی اور قبضہ گیری کے لیے پیٹروٹرین کی جانب سے زر تلافی کی ادائیگی کا خواہاں ہے۔

نیو یارک شہر میں واقع ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ کو 2000ء میں قدرتی گیس (کوئلہ و دیگر ہائیڈرو کاربنز) کو اعلیٰ، آلودگی سے پاک ایندھن اور دیگر اہم مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے گیس-سے-مایع (GTL) تنصیبات کی تعمیر اور انہیں چلانے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

 

ذریعہ: ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ

رابطہ: جیمز کارلائل، ورلڈ جی ٹی ایل انکارپوریٹڈ، +1-203-768-8300/ ہدایت برائے مدیران: مقدمے کے حوالے سے واقعات کی تفصیلی ٹائم لائن/فیکٹ شیٹ کے لیے جے ڈیبو سے +1-212-906-9192 پر رابطہ کریں یا انہیں jaydebow@aol.com پر ای میل کریں۔