ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی(Habitat for Humanity) 2004ء کے سونامی سے متاثر ہونے والے 22 ہزار 500 سے زائد خاندانوں کی مدد کر چکا ہے

اٹلانٹا، 18 دسمبر/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

عظیم قدرتی آفت کے پانچ سال مکمل ہونے پر ادارے کی جانب سے خصوصی رپورٹ کا اجراء

2004ء میں بحر ہند میں آنے والے تباہ کن سونامی کے بعد 5  سالوں میں ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی (Habitat for Humanity) انڈونیشیا، سری لنکا، بھارت اور تھائی لینڈ میں 22 ہزار 500 سے زائد خاندانوں کی مدد کر چکا ہے۔

(تصویر: http://www.newscom.com/cgi-bin/prnh/20091217/CL28135)

(لوگو: http://www.newscom.com/cgi-bin/prnh/20050501/NYSU020LOGO)

ہیبی ٹیٹ کی جاری کردہ رپورٹ ‘ ایمرجنگ اسٹرونگر: فائیو ایئر آفٹر دی انڈین اوشن سونامی’ بتاتی ہے کہ ادارہ دنیا بھر سے عطیات دہندگان، شراکت داروں، رضاکاروں اور حامیوں کو کس طرح متحرک کر رہا ہے کہ وہ محفوظ اور مناسب سستے گھروں کی ضرورت رکھنے والے خاندانوں کو مستقل گھر بنا کر دیں۔ یہ رپورٹ انفرادی خاندانوں اور برادریوں پر ہیبی ٹیٹ کے کام کے اثرات پر بھی نظر ڈالتی ہے۔

ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی انٹرنیشنل کے سینئر ڈائریکٹر برائے گلوبل ڈیزاسٹر رسپانس کپ شیڈلر نے کہا کہ “سونامی نے ہمیں تعمیر نو اور امدادی سرگرمیوں کے ایسے چیلنج سے دوچار کیا جو پہلے کبھی درپیش نہیں تھا۔ سونامی کے نتیجے میں ایسی تباہی و مصیبت زدگی آئی جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں تھی اس لیے تعمیر نو کے لیےسرکاری، نجی اور غیر منافع بخش شعبوں کی جانب سے بھی بے مثال ردعمل  کی ضرورت تھی۔ ہم اپنے کئی عطیات دہندگان، شراکت داروں اور رضاکاروں کے مشکور ہیں، جن کی مدد سے پانچ سال میں ہم 22 ہزار 500 خاندانوں کی مدد کر چکے ہیں اور اب بھی گھروں کی تعمیر اور تزئین و آرائش کا کام کر رہے ہیں ہے اور مزید خاندانوں کو مستحکم اور تحفظ پذیر برادریوں کی مدد کے ذریعے دیگر قدرتی آفات کا جواب دے رہے ہیں۔ “

ہیبی ٹیٹ روایتی پروگرام کے متعدد بنیادی نظریات پر مشتمل ایک سونامی جوابی حکمت عملی تشکیل دی جس میں بے گھر افراد کے لیے گھروں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے خاندانوں کے ساتھ کام کرنے کی اہمیت شامل ہے۔ تحقیق نے ظاہر کیا کہ اس سانحہ سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد اپنے گھروں اور ذریعہ معاش کو از سر نو تعمیر کرنے کے لیے مدد کی بہترین پوزیشن میں ہیں۔ اپنی زندگیوں کو از سر نو تعمیر کرنے میں شرکت پر لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے دو مخصوص فائدے ہیں: یہ سانحہ سے دوچار برادریوں کے زخموں کو مندمل کرنے میں مدد دیتی ہے، اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے برادری کی صلاحیت اور قابلیت میں اضافہ کرتی ہے، حتیٰ کہ وہ افراد بھی جو پہلے غربت میں زندگی بسر کرتے تھے۔

ستمبر 2009ء تک ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے تقریباً 22 ہزار 500 خاندانوں کی مدد کر چکا ہے۔ غیر منافع بخش ادارے نے بھارت میں 11 ہزار 700، آچے میں 5 ہزار 970، سری لنکا میں 2 ہزار 880 اور تھائی لینڈ میں تقریباً 2 ہزار خاندانوں کے لیے گھر تعمیر کر چکا ہے یا انہیں تعمیر نو اور مرمت کے مراحل سے گزار چکا ہے۔ چھت اور گھر فراہم کرنے کے ساتھ ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی نے بھارت کے مشرقی ساحلوں پر سانحہ کی تخفیف اور مستعدگی کے پروگرامز کے ذریعے 27 ہزار خاندانوں کو تربیت دے چکا ہے۔

ہیبی ٹیٹ سونامی سے شدید متاثر ہونے والے چار ممالک میں مقامی برادریوں کے ساتھ مل کر کام کو جاری رکھے ہوئے ہے اور جون 2010ء تک اندازاً 25 ہزار خاندانوں کی مدد کو ہدف پر رکھے ہوئے ہے۔

ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی انٹرنیشنل کے نائب صدر برائے ایشیا-پیسفک رک ہیتھ اوے نے کہا کہ “ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی کے متاثرہ ممالک میں بعد از سونامی منصوبے عوام کے لیے مزید کم خرچ گھریلو حل پیش کرنے کا نقطہ آغاز ہیں۔”

ہیبی ٹیٹ کی رپورٹ، ایمرجنگ اسٹرونگر: فائیو ایئر آفٹر دی انڈین اوشن سونامی، habitat.org پر دستیاب ہے۔

ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی کلیسا سے منسلک ایک عیسائی امدادی ادارہ ہے جو غریبوں کے لیے رہائش کے مسائل کے خاتمے سے وابستہ تمام افراد کو خوش آمدید کہتا ہے۔ 1976ء میں اپنے قیام سے لے کر ہیبی ٹیٹ دنیا بھر میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد گھر تیار، از سر نو تعمیر، مرمت اور بہتر بنا چکا ہے، اور 1.75 ملین سے سے زائد افراد کے لیے   سادہ، مناسب اور سستی چھت فراہم کر چکا ہے۔ مزید معلومات یا عطیہ یا رضا کار فراہم کرنے کے لیے ملاحظہ کیجیے www.habitat.org۔

ذریعہ: ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی انٹرنیشنل

رابطہ: جولینڈا لوگان

+1-404-420-6766

jlogan@habitat.org، یا

 

پیٹر وٹن

+66 (0)86105 1767 یا

+ 852 909 72014

pwitton@habitat.org، یا

 

مچیل سوہ

+65 9233 1544

msoh@habitat.org، تمام برائے ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی انٹرنیشنل