تاریخ میں پہلی بار سیلونس بائیوٹک، بیجنگ کی چینی تحقیقی/طبی ٹیم ایک ناول اسٹیم سیل کی بنیاد پر ایک طریقہ علاج کے ذریعے گلومیا –دماغی سرطان- کو ختم کر سکتی ہے

بیجنگ، 17 دسمبر/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

ایک چینی تحقیقی/طبی ٹیم سیلونس ٹیکنالوجیز، بیجنگ کی نئے اسٹیم سیل کی بنیاد پر تیار ٹیکنالوجی بیجنگ کے ایک ہسپتال میں ایک 36 سالہ نارویجین مریض کے گلیوما —  دماغی سرطان – کو ختم کر سکتی ہے۔ یہ علاج ظاہر کرتا ہے کہ متحرک مامونیت کا نظام رسولی کے اسٹیم سیلز کو براہ راست ختم کرنے کے ساتھ ساتھ سرطان کے ڈاٹر سیلز کو ختم کر سکتا ہے۔ ایک مکمل سرطان طریقہ علاج کے اندر اس نئے علاج کے حیرت انگیز نتائج سیلونس کو بتاتے ہیں کہ اینٹی جین-پریزینٹنگ ڈینڈریٹک سیل رسپانس کو بہتر بنانے کے لیے مستقبل کے ویکسی نیشن طریقہ ہائے علاج میں سرطان کے اسٹیم سیل لائی سیٹس کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

(تصویر: http://www.newscom.com/cgi-bin/prnh/20091217/CNTH007)

ناروے کے 36 سالہ اروے جانسن میں 2006ء میں گلیوما کی تشخیص کی گئی اور عضو کی قطع کے بعد 2009ء میں یہ ایک مرتبہ پھر عود کر آیا۔ وہ اگست 2009ء میں اپنی اہلیہ وانیا اور ایک سالہ بیٹی کے ساتھ بیجنگ اس امید کے ساتھ آئے کہ ناروے کے معالجین غلط ہوں گے۔ انہوں نے اہل خانہ کو بتایا کہ اسکاندے نیویا کے ممالک یا یورپ میں اروے کے لیے اپنی بڑھتی ہوئی بیماری کو کنٹرول کرنے اور اپنی زندگی بڑھانے کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔ صاحبزادی کے ساتھ والد کے جینے کی تمنا سے تقویت پانے والے جانسن خاندان نے دنیا بھر میں دیگر طریقہ ہائے علاج کی تلاش کے لیے تحقیقی مہم کا آغاز کیا ، جس نے اروے کو ایک نئی امید دی۔

چین میں سرطان کا جامع علاج

جانسن خاندان نے چین سرطان کے جامع علاج (CCT) کی قابل ثبوت کامیابی کے بارے میں سنا اور ناروے سے 10 ہزار کلومیٹر دور واقع اس ملک میں آخری موقع آزمانے کا فیصلہ کیا۔ سی سی ٹی کی یہ قسم گزشتہ چند سالوں میں سائنٹیفک محققین اور طبی معالجین نے بیجنگ میں تیار کی تھی، جس میں سرطان کے رسمی طریقہ ہائے علاج کو روایتی چینی ادویات (TCM) اور خلیاتی طریقہ ہائے علاج کو ملایا جاتا ہے۔

رسولیوں میں سرطان کے اسٹیم سیلز کا کردار

پہلے سائنسدان یہ سمجھتے تھے کہ رسولیوں سرطان کی بافتوں کی گلٹی ہوتے ہیں اور مریض کو صحت یاب کرنے کرنے کے لیے انہیں مکمل طور پر ختم یا تلف کر دینا ضروری ہے۔ لیکن گزشتہ چند سالوں میں محققین نے جانا ہے کہ سرطان کے اسٹیم سیلز (CSCs)، جو خلیات کی تھوڑے کی تعداد پر مشتمل ہوتے ہیں، مہلک رسولیوں کی ابتداء، نگہداشت اور عود کر آنے کی وجہ دکھائے دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ رسولی و مکمل طور پر تلف بھی کر دیا جائے پھر بھی یہ زندہ رہ جانے والے سی ایس سیز کی بدولت دوبارہ تخلیق ہوگی اور علاج کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مزاحمت کی حامل ہوگی۔

موجودہ طریقہ ہائے علاج، بشمول خلیاتی طریقہ علاج، عام طور پر سی ایس سیز کو نشانہ نہیں بناتے۔ یہ سی ایس سیز کو کیموتھراپی اور ریڈی ایشن طریقہ علاج کے بعد بھی بچ جانے کی اجازت دیتا ہے۔ ان خلیات کو ختم کرنا رسولیوں کے خاتمے اور دوبارہ پیدا ہونے سے روکنے میں اہم حکمت عملی ہے۔

پروفیسر للی شوم: اسٹیم سیلز اور امیونوتھراپیز کا مکمل انضمام

سیلونس کے چیف سائنسدان پروفیسر للی شوم پی ایچ ڈی کہتے ہیں کہ “عام طریقہ ہائے علاج، خصوصاً کیموتھراپی، رسولیوں کے خاتمے کے لیے کافی کیوں کافی نہیں، اس کا جواب غالباً سی ایس سیز دے سکتی ہیں۔ فی الحقیقت نئے کیموتھراپک ایجنٹس کی مستقل تیاری کے باوجود، دماغی رسولیاں بن سکتی ہیں اور دیگر طریقۂ علاج کے خلاف بدستور مزاحمت کرتی ہیں۔ اسٹیم سیلز اور مامونیت کی ٹیکنالوجیز کا انضمام ہمیں سی ایس سیز کو ہدف بنانے کی ایک نئی راہ کی تلاش کا موقع دیتا ہے۔”

“ہمارے منصوبے کا پیچیدہ ترین مسئلہ سی ایس سیز کو پکڑنا اور ان کی زمرہ بندی کرنا تھا۔ اپنی پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجیز کی بدولت ہم مریض کی دماغی رسول کی بافتوں سے سی ایس سیز کو جدا کرنے، تلف کرنے اور کثیر-الادویاتی اور ریڈی ایشن مزاحمت پر مائل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ خلیات سرطان پیدا کرنے اور خود –احیا کی انتہائی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں اور ادویات اور ریڈی ایشن کے خلاف بھی زبردست مزاحمت رکھتے ہیں۔”

للی شوم نے مزید کہا کہ “دماغی سی ایس سیز کے خلاف مخصوص مامونیت رسپانس کے لیے ڈینڈریٹک سیل (DC) ایک اہم کارآمد ٹول ہے۔” جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ڈی سی ایک اینٹی-جین پریزنٹنگ سیل ہے جو مامونیت کے فطری نظام کو آمادۂ کار کرتا ہے، اور ایک پیغام بر کی حیثیت سے “سرطان کے خلیہ –اینٹی جین- کی معلومات” کو مامونیتی نظام کے قاتلین – ٹی خلیات- تک پہنچاتا ہے اور پھر ٹی خلیات ان اینٹی جینز کے حامل خلیات کو پہچان اور انہیں پاش کر سکتا ہے۔ “ہم نے ڈی سی کو دماغ کے سی ایس سیز کے حوالے سے شعور بخشا اور پھر مخصوص مامونیاتی رسپانس تخلیق کیا جو سی ایس سیز کو نشانہ بناتا ہے۔”

ڈاکٹر ڈنگ گینگ لی: جامع طریقہ ہائے علاج برائے سرطان

ڈاکٹر ڈنگ گینگ لی، ایم ڈی، پی ایچ ڈی نے کہا کہ “جانسن کے ساتھ پہلی پائلٹ تحقیق کے نتائج شاندار ہیں۔ جانسن کا پی ای ٹی-سی ٹی اسکین ظاہر کرتا ہے کہ علاج کے بعد پوری رسولی غائب ہو گئی ہے۔” ڈاکٹر گزشتہ چند سالوں میں 100 سے زائد بین الاقوامی مریضوں کے لیے سی سی ٹی تیار اور پیش کر چکے ہیں۔ سرطان کے اُن کے جامع طریقہ علاج کے اہم عناصر میں دماغی سرطان سے متعلقہ اینٹی جیٹ کی مختلف اقسام سے لدے ہوئے ڈی سیز جو سرطان کے خلیات کو نشانہ بناتے ہیں اور سی آئی کے سیل ٹریٹمنٹ شامل ہیں۔ “علاج کے پہلے مرحلے میں، ہم نے ایس ایچ جی-44 لوڈنگ ڈی سی، سی آئی کے سیل تھراپی اور ٹی سی ایم پر مشتمل جامع اپروچز کے ذریعے ان کا علاج کیا، لیکن ہم بیماری کی بڑھاؤ کو روکنے میں ناکام رہے، اور رسولیاں بدستور بڑھتی رہیں۔ ہم نے علاج کے دوسرے مرحلے میں دماغی سی ایس سیز کو ہدف بنانے کے لیے ڈی سی تھراپی دی اور اس نے انتہائی امید افزاء نتائج ظاہر کیے۔”

ڈاکٹر سنڈی ہاؤ: نتائج کی تصدیق کے لیے مزید طبی جانچ

سیلونس بائیو ٹیکنالوجیز کے سی ای او سنڈی ہاؤ، ایم ڈی دماغی سرطان کے اس نئے طریقہ علاج کے مستقبل کے حوالے سے بہت پر امید ہیں۔ “اس نے ہمیں بھرپور اعتماد دیا ہے کہ ہم اس سمت میں اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ یہ پائلٹ ٹریٹمنٹ اسٹڈی ظاہر کرتی ہے کہ متحرک مامونیاتی نظام رسولی کے اسٹیم سیلز کے ساتھ ساتھ ڈاٹر سیلز کو بھی ختم کر سکتا ہے۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں اپنے طبی تجربات کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کی تصدیق کی جا سکے۔ اس نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ اینٹی جین-پریزینٹنگ ڈینڈریٹک سیل رسپانس کو بہتر بنانے کے لیے مستقبل کے ویکسی نیشن طریقہ ہائے علاج میں سرطان کے اسٹیم سیل لائی سیٹس کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجیے:

یورس، جے لائنرٹ، ایم بی اے

ڈائریکٹر انٹرنیشنل

سیلونس بائیوٹیکنالوجیز کمپنی لمیٹڈ

7 ویں منزل، ہوئی چونگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سینٹر

نمبر 1، شانگڈی سیونتھ روڈ

ہائیدیان ڈسٹرکٹ بیجنگ، 100085

عوامی جمہوریہ چین

ای میل: urs.lienert@cellonis.com؛ Lienert.Cellonis@yahoo.com

فون: +86-10-6296-2795؛ موبائل: +86-150-1054-7487

موبائل: +41-76-584-87-60 (سویٹزرلینڈ)

(20 دسمبر 2009ء تا 15 جنوری 2010ء)

 

ذریعہ: سیلونس بائیوٹیکنالوجیز