چارقوتیں مستقبل میں موبائل بینکاری کی شکل ڈھالیں گے

لندن، 19 نومبر/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

– حکومتیں اورصنعتیں اگلی دہائی میں مالیاتی شمولیت میں اضافے کےلیے پسندکرسکتی ہیں

بغیر شاخ کی بینکاری (برانچ لیس بینکنگ) بشمول موبائل بینکاری کا بڑھتا ہوا استعمال بیشتر ممالک میں ناگزیر ہے۔ لیکن ابھی اتنا یقینی نہیں ہےکہ بینکوں کی سہولیات نہ حاصل کرنے والے غریب افراد ادائیگی سے آگے بڑھ کر بچت اور قرضہ جات کے لیے متبادل چینل استعمال کریں گے۔ یہ عالمی بینک کے ایک مائیکروفنانس گروپ سی جی اے پی (CGAP) اور برطانوی ادارہ بین الاقوامی ترقیات (DFID) نےایک نئی رپورٹ بعنوان ”2020ءمیں برانچ لیس بینکاری کا منظرنامہ“ میں کہا ہے۔

برطانیہ کے وزیر برائے تجارت و ترقیاتی گیرتھ تھامس نے آج کہا ہے کہ

”یہ حقیقت ہے کہ 2020ءتک 2.7 ارب ایسے افراد جو بینک استعمال نہیں کرتے موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے بغیر شاخ کی بینکاری تک رسائی حاصل کریں گے، یہ ترقی پذیر ممالک میں عوام کی مالیاتی شمولیت کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔

”مالیاتی طور پر محروم کیے جانے کے باعث غریب غربت کی دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ پیسوں کی بچت کے محفوظ مقامات اور مستقبل میں سرمایہ کرنے کے مواقع کی کمی کے شکار ہیں اور قدرتی آفات کی صورت میں بچت کو ضائع ہونے بچانے کے خطرات کو کم نہیں کرپاتے۔

”جیسا کہ یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ اربوں غریب افراد کو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیار کردہ مالیاتی خدمات کی فراہمی کے ذریعے سرمایہ کاری کو یقینی بنانے میں حکومتوں اور نجی شعبے کو بہت بڑا کردار ادا کرنا ہے۔“

یہ رپورٹ مستقبل کی برانچ لیس بینکاری پر چار منظر نامے متعین کرتی ہے۔تمام چار منظرناموں میں، آج کے مقابلے میں 2020ءمیں برانچ لیس بینکاری کے انتخاب اور استعمال میں اضافے کی پیش بینی کی گئی ہے۔ لیکن ان میں سے دو منظرناموں میں، تیز تر ترقی کے بعد زوال اور خوشگوار پیشرفت کے ادوار ہوں گے۔

سی جی اے پی کے سی ای ایلزبتھ لٹل فیلڈ نے کہا کہ ”موبائل بینکاری کے بانیوں نے لاکھوں غریبوں، خصوصاً دیہات کے رہنے والوں کو، بالآخر یہ امید دی ہے کہ وہ بینکاری سسٹم سے مستفید ہوں گے۔ اگر ہم صرف رقوم کی ادائیگیوں اور منتقلیوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر بنیادی بینکاری خدمات خصوصاً بچت کی فراہمی پیش کرنا چاہتے ہیں، جو غریبوں کی ضرورت اور خواہش ہے، تو بینکوں اور بینکوں کے ایجنٹوں کو درست فوائد دینے والے نئے کاروباری ماڈلز اور شراکت داریاں بہت زیادہ اہم ہیں۔“

یہ رپورٹ ششماہی منظرنامہ-تیاری کے منصوبے کا نتیجہ ہے جس میں 30 سے زائد ممالک کے ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبہ جات کے 200 ماہرین شامل تھے۔

برانچ لیس بینکاری کا موجودہ عکس

-مالیاتی شمولیت بیشتر ممالک میں بڑھ رہی ہے۔ یہ روایتی بینکاری کے چینلوں، جیسے کہ شاخوں اور آٹو ٹیلر مشینوں (اے ٹی ایمز)، کی توسیع کا نتیجہ ہے؛

-تعمیرات کے ذریعے ترقی اپنے اخراجات کے باعث فطری طور پر محدود ہے۔ بغیر شاخ کی بینکاری ایک سست آپشن فراہم کرتی ہے لیکن بیشتر ممالک میں ابھی تک اس کی رسائی نسبتاً کم ہے؛

-جہاں بغیر شاخ کی بینکاری جاری ہے، وہاں مندرجہ ذیل متعدد عناصر عام طور پر کام کر رہے ہیں: (۱) مستقبل میں منافع بخشی کے حوالے سے صنعت کا اعتماد؛ (۲) ضوابط کی تبدیلی کی آسانی؛ (۳) منسلک ہونے کے اخراجات میں ڈرامائی کمی؛ (۴) موجودہ نیٹ ورکس کے ذریعے کیش-ہینڈلنگ ایجنٹوں کی تخلیق؛ اور،

-موجودہ تشہیر کہ بغیر شاخ کی بینکاری کی صلاحیت حقیقت سے کہیں زیادہ آگے جارہی ہے۔ غریبوں تک رسائی میں زبردست کامیابی کو زیادہ بہتر درون بینی (ان سائٹس) کی ضررت تاکہ غریب افراد کی مالیاتی ضروریات اور انتخاب کرنے کے رویے پر درست ترین تجزیے مل سکیں۔ یہ صرف دستیابی کے لیے ابتداءہے۔

چار قوتیں جو 2020ءکے لیے بغیر شاخ کی بینکاری کی شکل ڈھالیں گی

– آبادیاتی خصوصیات میں تبدیلی — جس میں شامل ہے نوجوان صارفین کی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی تعداد اور کم از کم ملک کے اندر بڑھتی ہوئی نقل و حرکت — جو بغیر شاخ کی بینکاری کو اپنانے کے لیے سازگار ہوگی۔

-متحرک حکومتیں مالیاتی شعبے کے ضابطہ کار، سماجی حفاظت کے خطوط کے فراہم کنندہ، اور کم خرچ بینک کھاتوں اور مالیاتی ڈھانچے کو پیش کرنے والے یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے عامل کی حیثیت سے اہم کردار ادا کریں گی۔ یہ بڑھتا ہوا کردار مالیاتی شمولیت میں مددگار ثابت ہوگا؛

– رقوم لوٹنے کے جرائم کے حوالے سے حفاظت کے خدشات برقی ٹرانزیکشن چینلوں کو اپنانے کا محرک ثابت ہوں کے، ساتھ ہی برقی جرائم میں اضافہ صارف کے اعتماد پر اثر ڈالے گا اور مالیاتی فراہم کنندہ کے خطراتی انتظام کے لیے امتحان ہوگا؛ اور

-موبائل فون کے ذریعے انٹرنیٹ برازنگ مالیاتی ٹرانزیکشن کے اخراجات کو کم کرے گی اور نئے صارفین کے لیے مالیاتی خدمات پیش کرنے کی سہولت دے گی۔

سی جی اے پی اور جی ایس ایم اے کے تحقیق کاروں نے پتہ لگایا ہے کہ افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا میں موبائل کھاتہ نہ رکھنے والے لیکن موبائل فون رکھنے والے افراد ک تعداد آج ایک ارب تک ہے جو 2012ءتک 1.7 ارب ہو جائے گی۔ یہ ”بغیر بینک کے موبائلڈ“ صارفین خدمات فراہم کنندگان کو ایک زبردست مارکیٹ موقع فراہم کرتے ہیں۔

ہدایت برائے مدیران

یہ رپورٹ آج لندن میں DFIDمیں جاری کی گئی۔ سی جی پی اے ٹیکنالوجی بلاگ پر یکم دسمبر کو ایک براہ راست ویب کاسٹ ہوگی۔ مزید جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے http://technology.cgap.org

سی جی اے پی ٹیکنالوجی پروگرام کو بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن کی مدد حاصل ہے۔

سی جی اے پی ایک آزاد پالیسی و تحقیقی مرکز ہے جو دنیا بھر کے غریبوں کے لیے مالیاتی رسائی میں اضافے سے وابستہ ہے۔ اسے 30 سے زائد ڈیولپمنٹ ایجنسیوں اور نجی فاونڈیشنز کا تعاون حاصل ہے جو غربت کے خاتمے کے یکساں ہدف رکھتی ہیں۔ عالمی بینک میں قائم سی جی اے پی مارکیٹ انٹیلی جنس کی فراہمی، معیارات کے فروغ، جدید سلوشنز کی تیاری حکومتوں، مائیکروفنانس فراہم کنندگان، ڈونرز اور سرمایہ کاروں کو مشاورتی خدمات فراہم کرتا ہے۔ مزید معلومات کے لیے http://www.cgap.org

ادارہ بین الاقوامی ترقیات برطانوی حکومت کا ادارہ ہے جو غریب ممالک کے لیے برطانیہ کی امداد کا انتظام کرتا ہے اور انتہائی غریب کے خاتمے کے لیے کام کرتا ہے۔ آپ مزید معلومات www.dfid.gov.uk/ دیکھ سکتے ہیں۔

ڈی ایف آئی ڈی نے حال ہی میں ایک مالیاتی خدمات بذریعہ ٹیکنالوجی (FAST) منصوبے کے لیے ایک آسان رسائی کا آغاز کیا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کی بڑی مارکیٹوں میں ”بغیر شاخ کی بینکاری“ کے اجراءمیں مدد دی جا سکے، ان ممالک میں کینیا، تنزانیہ، پاکستان، نائیجیریا، بھارت، بنگلہ دیش اور گھانا شامل ہیں۔ پائلٹ پروجیکٹ کا تخمینہ مالیاتی اور ٹیکنالوجی ماہرین کی ٹیمیں لگائیں گی جہاں مناسب مدد اور مختلف ممالک کے لیے پھیلاو میں اضافے کو فروغ دیا جائے گا۔

ذریعہCGAP:

رابطہ: جم روزنبرگ (Jim Rosenberg)

+1-202-473-1084

jrosenberg@worldbank.org

برائے  CGAP

 

یا DFID پریس آفس

+44(0)207-023-0600