دنیا بھر میں 35 ملین سے زائد افراد الزیمر اور ڈیمنشیا کا شکار ہیں، نئی رپورٹ

نیویارک، 21 ستمبر/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

الزیمرز ڈیزیز انٹرنیشنل (ADI) کی 2009ء ورلڈ الزیمر رپورٹ کے مطابق 2010ء میں دنیا بھر میں 35 ملین سے زائد افراد ڈیمنشیا (Dementia) کے حامل ہوں گے۔ یہ نئی رپورٹ 21 ستمبر کو جاری ہوئی جو الزیمر کا عالمی دن ہے۔

2005ء میں دی لانسیٹ میں جاری کی گئی رپورٹ میں ڈیمنشیا کے گزشتہ پھیلاؤ کے مقابلے میں یہ 10 فیصد اضافہ ہے۔ نئی رپورٹ کے مطابق ڈیمنشیا کا پھیلاؤ ہر 20 سال بعد تقریباً دوگنا ہو جائے گا، 2030ء میں 65.7 ملین اور 2050ء میں 115.4 ملین۔

تحقیق کاروں کے مطابق ڈیمنشیا کے عالمی پھیلاؤ میں حالیہ اضافہ بنیادی طور پر کم اور درمیانی آمدنی کے حامل ممالک سے ملنے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہوا ہے۔ تین خطوں کے لیے اندازوں میں اضافہ ہوا ہے – مغربی یورپ (7.29 فیصد بمقابلہ 5.92 فیصد)، جنوبی ایشیا (5.65 فیصد بمقابلہ 3.40 فیصد) اور لاطینی امریکہ (8.50 فیصد بمقابلہ 7.25 فیصد)؛ مشرقی ایشیا (4.98 فیصد بمقابلہ 6.46 فیصد) میں پھیلاؤ کم رہا اور امریکہ میں صورتحال موثر طور پر برقرار رہی۔

تحقیق کاروں کو معلوم ہوا ہے کہ 2010ء تک ڈیمنشیا کے شکار 57.7 فیصد لوگ کم اور متوسط آمدنی کے حامل ممالک میں رہتے ہیں، جن کی تعداد 2050ء تک 70.5 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ علاوہ ازیں زیادہ آمدنی کے حامل ممالک کے مقابلے میں کم اور درمیانی آمدنی کے حامل ممالک میں اگلے 20 سالوں میں ڈیمنشیا کے شکار افراد کی تعداد میں اسی تناسب سے اضافہ ہوگا۔

اے ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مارک وارٹمین (Marc Wortmann) نے کہا کہ “2009ء ورلڈ الزیمر رپورٹ میں شامل معلومات اس بات کو صاف ظاہر کرتی ہے کہ ڈیمنشیا اور الزیمر کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ الزیمر کا بلا روک ٹوک پھیلاؤ انفرادی سطح پر افرادکے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ، صحت عامہ کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی معیشت پر زبردست بوجھ ڈالے گا۔”

وارٹمین نے کہا کہ “ڈیمنشیا سے بچاؤ کر طریقوں اور خدمات کو بہتر بنانے اور ان کے لیے فنڈنگ، اور تحقیق کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ذریعے یہ امید قائم کی جا سکتی ہے۔ آسٹریلیا، فرانس، کوریا اور برطانیہ نے قومی الزیمر منصوبہ ہائے عمل تیار کیے ہیں اور مزید چند فی الحال زیر تکمیل ہیں۔ ہم اس مثال کی تقلید اور الزیمر کو ترجیح دینے پر دیگر ممالک کی حوصلہ افزائی کریں گے۔”

ڈیمنشیا کا جذباتی اور مالیاتی اثر

رپورٹ کے دوسرے باب میں ڈیمنشیا کے اثرات پر توجہ دی گئی ہے۔ ڈیمنشیا نہ صرف مرض کے شکار فرد پر بلکہ تیماردار(وں)، فرد کے اہل خانہ اور دوستوں،  صحت عامہ کے نظام(وں) اور معاشرے پر بھی گہرے طبعی، نفسیاتی اور اقتصادی اثرات مرتب کرتا ہے۔ مثال کے طور پر نئی رپورٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 40 سے 75 فیصد تیمارداری کے نتیجے میں نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور 15 سے 32 فیصد کو ذہنی تناؤ لاحق ہو جاتا ہے۔

رپورٹ دنیا بھر میں حکومتوں اور صحت عامہ کے نظاموں کو درپیش چیلنجز کا بھی احاطہ کرتی ہے اور رپورٹ کے نتائج کی بنیاد پر 8 عالمی سفارشات پیش کرتی ہے۔

مکمل 2009ء ورلڈ الزیمر رپورٹ، بشمول اس کی تیاری کے لیے اختیار کیا گیا طریقۂ کار،

http://www.alz.co.uk/worldreport سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

ڈیمنشیا دماغی بیماری کے باعث لاحق ہونے والا ایک عارضہ ہے اور اس کی تشخیص عقلی صلاحیتوں، بشمول یادداشت، سیکھنے کی صلاحیت، سمت کے تعین، زبان، فہم اور فیصلے میں کافی حد تک کمی کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ خصوصاً الزیمر کا مرض تدریجی اور مہلک ہے۔ یہ عام طور پر 65 سال سے زائد کے افراد کو متاثر کرتاہے۔ اس عمر کے بعد ہر پانچ سال کے بعد ڈیمنشیا کے پھیلاؤ کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے۔ ڈیمنشیا ضعیف العمری میں معذوری کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے۔ الزیمر کی بیماری ڈیمنشیا ؛ ویسکیولر ڈیمنشیا، لیوی اجسام کے ساتھ ڈیمنشیا کا عام سبب ہے جبکہ اس کے بعد فرنٹوٹیمپورل ڈیمنشیا سب سے عام ہے۔

21 ستمبر الزیمر کا عالمی دن ہے، جب دنیا بھر کی الزیمر تنظیمیں بیماری کے حوالے سے شعور اجاگر کرتی ہیں۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے http://www.alz.co.uk/adi/wad/۔

الزیمرز ڈیزیز انٹرنیشنل دنیا بھر کی 71 الزیمر تنظیموں کا بین الاقوامی وفاق ہے۔ ہر رکن اپنے ملک کی قومی الزیمر تنظیم ہے جو ڈیمنشیا کے شکار افراد اور ان کے اہل خانہ کی مدد کرتی ہے۔ اے ڈی آئی کا ہدف دنیا بھر میں ڈیمنشیا کے شکار افراد اور ان کے اہل خانہ کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ ملاحظہ کیجیے http://www.alz.co.uk/adi/۔

ذریعہ: الزیمرز ایسوسی ایشن (Alzheimer’s Association)

+1-312-335-4078

media@alz.org