60 سے زائد ممالک کی جانب سے مالیاتی خدمات تک رسائی میں اضافے کے لیے نئے عالمی اتحاد کی تشکیل

 

نیروبی، 14 ستمبر/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

الائنس فار فنانشل انکلوژن بینکاری کی سہولیات سے محروم تقریباً 70  فیصد دنیا کی نمائندگی کرنے والے مرکزی بینکوں و دیگر کو قریب لا رہا ہے؛ نیٹ ورک ترقی پذیر دنیا میں لاکھوں افراد تک پہنچنے کے لیے پالیسیاں تیار اور نافذ کرے گا

تقریباً 100 مرکزی بینکار اور دیگر مالیاتی پالیسی ساز آج یہاں الائنس فار فنانشل انکلوژن (AFI) کی باضابطہ آغاز کے لیے جمع ہوئے، یہ اتحاد ترقی پذیر دنیا کے ممالک کے ان لاکھوں افراد کے لیے تشکیل دیا گیا ہے جو 2 ڈالر روزانہ سے کم آمدنی رکھتے ہیں اور یہ اتحاد انہیں بچت کھاتوں، انشورنس اور دیگر مالیاتی خدمات فراہم کرنے سے وابستہ ہوگا۔

تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ مالیاتی خدمات تک بہتر رسائی بڑھتی ہوئی بچت اور غریب گھرانوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں میں سرمایہ کاری سے قومی آمدنی میں اضافے کے ذریعے اقتصادی نمو کو بہتر بنا سکتی ہے۔ یہ رسائی نظام میں باقاعدہ بچت، سرمائے کی بنیاد کو متنوع بنانے اور عالمی بحرانی دور میں استحکام فراہم کر کے مالیاتی استحکام  کو بھی بہتر بناتا ہے۔ اب تک اندازاً 2.5 ارب افراد – دنیا کی کل بالغ آبادی کے نصف سے زائد- بچت کھاتوں اور دیگر مالیاتی خدمات تک رسائی نہیں رکھتے۔

اے ایف آئی کا عالمی نیٹ ورک ترقی پذیر ممالک کو معلومات شیئر کرنے کی سہولت دے گا تاکہ وہ مالیاتی خدمات تک رسائی میں اضافے کے لیے پالیسیوں کو موثر انداز میں مرتب اور نافذ کر سکیں۔ حالانکہ مالیاتی رسائی میں اضافے کے لیے بہترین پالیسیوں میں سے بیشتر ترقی پذیر ممالک سے سامنے آئیں – جیسے موبائل فون انتقال رقم کی خدمات کینیا سے اور ایجنٹ بینکاری برازیل سے- تاہم ان سلوشنز کی معلومات دنیا بھر میں بکھری پڑی ہیں۔

گورنر بینک آف تھائی لینڈ اور اے ایف آئی رکن تاریسا وتاناگاسے نے کہا کہ “اے ایف آئی کا بے مثال پہلو یہ ہے کہ یہ ہم اراکین کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیتا ہے کہ ہم اپنے ممالک میں مالیاتی خدمات کی دستیابی اور انتخاب میں اضافے کے لیے حل کی تلاش اور تخلیق کریں۔ کیونکہ ہم اپنے ممالک کی صورتحال کو باہر کی تنظیموں سے زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں، اس لیے اے ایف آئی ہمارے لیے ایک بے مثال فورم ہے کہ ہم کارآمد پالیسیاں شیئر کریں اور دیگر پالیسی سازوں کے کارآمد سلوشنز سے سیکھیں۔”

اے ایف آئی کے اراکین رواں ہفتے نیروبی میں گلوبل پالیسی فورم کے لیے اکٹھے ہوں گے جو اتحاد کی پہلی سالانہ کانفرنس کی حیثیت سے تین روزہ اجلاس ہوگا۔ فورم کے اختتامی نتائج مالیاتی شعبے کی اصلاحات کے بارے میں آگہی دیں گے، جن کو اپنے ملکوں میں نافذ کرنے کے لیے اراکین غور کریں گے۔

کینیا کے وزیر آعظم عزت مآب رایلااوڈینگا (Raila Odinga) کانفرنس کا افتتاح کریں گے، جس کے بعد دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے گورنر اور اعلیٰ عہدوں پر فائز نمائندے پری زین ٹیشنز (Presentations) پیش کریں گے۔

اے ایف آئی اراکین کو اپنے متعلقہ ممالک میں مالیاتی شمولیت میں اضافے کے لیے چھ پالیسی شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کو منتخب کرنا ہوگا: بینکاری ایجنٹ ، مالیاتی مصنوعات اور فراہم کنندگان کا تنوع، مرکزی بینک میں اصلاحات، مالیاتی شناخت، صارف کا تحفظ اور موبائل فون  بینکاری۔

کینیا کے مرکزی بینک کے گورنر اور اے ایف آئی رکن انجوگونا اینڈونگو (Njuguna Ndung’u) نے کہا کہ “کینیا میں ہم نے موبائل فون کے ذریعے انتقال رقوم کے نظام ایم-پیسا (M-Pesa) جیسے جدید حل کے بانی ہیں۔ اسی طریق پر ہم ایسے حل شیئر کریں گے جو ہمارے لیے کارآمد تھے، ہماری نظریں اے ایف آئی پر مرکوز ہیں کہ وہ اپنے بڑے خیال کو متعارف کرانے میں مدد کرے، جیسے مالیاتی خدمات کی فراہمی میں ایجنسی نمونوں کا استعمال۔”

بنکاک، تھائی لینڈ میں قائم اے ایف آئی کا انتظام جرمن ترقیاتی ادارے ڈوئچے گیسل خافت فور تکنیش زوسامیناربیت (Deutsche Gesellschaft fur Technische Zusammenarbeit) (GTZ) جی ایم بی ایچ اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی 35 ملین ڈالرز کی گرانٹ اس کی مدد کرے گی۔

اے ایف آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر الفریڈ ہانگ نے کہا کہ “اے ایف آئی کا پیئر-ٹو-پیئر معلومات کی ترسیل کا ماڈل کارآمد پالیسی سلوشنز کو نافذ کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ سب سے زیادہ حقیقت پسند اور کامیاب حل غریب افراد کو باضابطہ مالیاتی نظام میں شامل کرنے کے ہیں جو ترقی پذیر ممالک میں ہمارے اراکین نے تخلیق کیے ہیں۔”

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن میں مالیاتی خدمات برائے غرباء کے ڈائریکٹر باب کرسچن نے کہا کہ “مالیاتی خدمات –خصوصاً بچت، کی طلب ترقی پذیر دنیا میں بہت زیادہ ہے۔ اے ایف آئی غریبوں کے ان کے گھر کے دروازوں پر یہ خدمات فراہم کرنے کے لیے نئی اور جدید کوششوں کو پھیلانے میں مدد کرے گا تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو درپیش خطرات سمجھ سکیں اور زندگی میں حاصل ہونے والے مواقع کا فائدہ اٹھا سکیں۔”

اے ایف آئی کے بارے میں

الائنس فار فنانشل انکلوژن (AFI) 60 سے زائد ترقی پذیر ممالک کے مرکزی بینکوں اور پالیسی ساز انجمنوں کا عالمی نیٹ ورک ہے۔ اے ایف آئی اپنے اراکین کو سیکھنے کا ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے تاکہ مالیاتی شمولیت کی کارآمد پالیسیوں کے حوالے سے معلومات کو شیئر کیا جا سکے اور ان پالیسیوں کو نافذ کرنے میں مدد کے لیے گرانٹ فراہم کی جاسکے۔

www.afi-global.org

ذریعہ: الائنس فار فنانشل انکلوژن

رابطہ: ایلیسن سلیٹر (Alyson Slater) از الائنس فار فنانشل انکلوژن

+66 84 700 7259

alyson.slater@afi-global.org

یا

Jim Meszaros of Weber Shandwick,

+1-703-966-2321,

jmeszaros@webershandwick.com ,

for Alliance for Financial Inclusion