ٹی ای ڈی اوپن-ٹرانسلیشن پروجیکٹ سے TED.com کو 40 سے زائد زبانوں میں سب ٹائٹلز حاصل ہوں گے

 

نیویارک، 13 مئی/پی آرنیوزوائر-ایشیانیٹ/

اپنی نوعیت کا پہلا ٹول-سیٹ دنیا بھر میں رضاکار مترجموں کو اختیار دے رہا ہے کہ وہ TED Talks کو اپنی برادریوں کے لیے پیش کر سکیں

تعریف و توصیف حاصل کرنے والی TED کی ویب سائٹ پر18-منٹ کی گفتگو مفت دستیاب ہیں جو اب ٹی ای ڈی اوپن ٹرانسلیشن پروجیکٹ (www.ted.com/translation) کے ذریعے انگریزی بولنے والے اقوام سے بھی کہیں آگے تک رسائی حاصل کریں گی، اس منصوبے کا آغاز آج ہورہا ہے۔

رواں سال میں یہ منصوبہ وڈیو سب ٹائٹلز ، ٹائم-کوڈڈ نقول اور دنیا بھر میں پھیلے رضاکاروں کے لیے صلاحیت پیش کرے گا تاکہ ہر گفتگو کو کسی بھی زبان میں ترجمہ کیا جا سکے۔ منصوبہ 40 زبانوں میں 300 مترجموں کے ساتھ شروع ہوا ہے؛ جبکہ 200 سے زائد رضاکار مترجم پہلے ہی اپنا حصہ ڈال چکے ہیں۔

ٹی ای ڈی کیوریٹر کرس اینڈرسن کہتے ہیں کہ “ٹی ای ڈی کا ہدف دنیا بھر میں اچھی سوچ کو پروان چڑھانا ہے اور یہ بہترین وقت ہے کہ ہم دنیا کے ان 4.5 ارب افراد تک رسائی حاصل کریں جو انگریزی نہیں بولتے۔ ہم نچلی سطح تک کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے اوپن سورس ذریعے کے استعمال پر بہت خوش ہیں جو ہماری گفتگوؤں کو بروقت سینکڑوں زبانوں میں ترجمہ کرنے کی سہولت دے گا۔ عالمی تعلیم میں ویب کے ذریعے یہ عظیم انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب زمین پر رہنے والے بیشتر افراد دنیا کے بہترین اساتذہ تک براہ راست رسائی حاصل کر سکیں گے جو ان کی اپنی زبان سے اُن سے گفتگو کریں گے۔ یہ کتنا شاندار و خوش کن تصور ہے؟”

TED.com اپنی 400 سے زیادہ گفتگوؤں (talks) میں یہ پیش کرے گا:

– انگریزی اور کئی اضافی زبانوں میں سب ٹائٹلز (کئی وڈیوز آغاز پر 25 زبانوں تک کی حامل ہوں گی)

– کئی زبانوں کا ایک ٹائم-کوڈڈ انٹرایکٹو ٹرانس کرپٹ آپ کو کسی بھی جملے پر کلک کر کے وڈیو میں براہ راست اس مقام تک پہنچنے کی سہولت دے گا۔ یہ سہولت وڈیو کے پورے مواد کو سرچ انجنز پر اشاریے کے قابل بنا دے گی۔

– ترجمہ شدہ سرخیاں اور وڈیو کی توضیح، نئی زبان کے انتخاب پر ظاہر ہوگی۔

– زبان کے مخصوص یو آر ایلز منتخب سب ٹائٹلز کو ڈیفالٹ میں چلائیں گے۔

نوکیا کی جانب سے ایک مفکرانہ تعاون کے باعث ٹی ای ڈی اوپن ٹرانسلیشن پروجیکٹ کسی بھی اہم میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے آن لائن وڈیو مواد کے سب ٹائٹل اور انڈیکس بنانے کی جامع ترین کوشش ہے۔ یہ رضاکارانہ ترجمہ کاری کے سرکاری و پیشہ ورانہ استعمال کی بھی اولین کوشش ہے۔

ٹی ای ڈی میڈیا کے ایگزیکٹو پروڈیوسر جون کوہن کہتے ہیں کہ “رضاکارانہ ترجمہ کاری عالمی سطح پر سامعین و ناظرین تک رسائی کی کوشش کرنے والے کسی بھی فرد کے لیے بہت زیادہ اہمیت اختیار کرے گی۔ یہ دنیا بھر کی زبانوں تک رسائی کا واحد ممکن ذریعہ ہے۔ عوامی سطح پر کیے گئے ترجمے رضاکاروں کی ایسی برادریاں بناتی ہیں جو تخلیقی کام انجام دینے کے حوالے سے بھرپور جذبات رکھتی ہیں، اپنے ترجموں کی درستی کی ذمہ دار اور نظام کو ازخود مرتب کرنے کے لیے سرمایہ کرتے ہیں۔ یہ صارفین کو حقیقی شراکت داروں کو میں تبدیل کرتا ہے تاکہ اچھوتے خیالات کو پھیلانے میں مدد ملے۔”

دنیا بھر کی زبانوں میں عوامی سطح پر ترجمہ کاری(کراؤڈ-سورسڈ ٹرانسلیشنز)

اوپن ٹرانسلیشن پروجیکٹ کے آغاز کے لیے چند گفتگوؤں کو پیشہ ورانہ طور پر 20 زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ لیکن پیش کیے جانے والے تمام ترجمے رضاکاروں کے کیے ہوئے ہوں گے۔ رضاکار ترجمہ کاری 200 سے زائد شایع شدہ ترجمے اس منصوبے میں پہلے ہی شامل کر چکی ہے (جبکہ 450 ابھی تیاری کے مراحل میں ہیں)۔ رضاکاروں میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے والے منظم شدہ گروپوں سے لے کر انفرادی سطح پر کام کرنے والے ترجمہ کار سب شامل ہیں اور جنہیں ٹی ای ڈی نے دیگر کے ساتھ مربوط کیا ہے۔

اس پروگرام میں مدد کے لیے ٹی ای ڈی اور ٹیکنالوجی شراکت دار dotSUB نے ٹولز کا ایک مجموعہ تیار کیا ہے جو دنیا بھر میں شراک تداروں کو اپنی پسندیدہ گفتگو کو اپنی زبان میں ترجمہ کرنے کی سہولت دے گا۔ یہ رسائی کثیر الاستعمال ہے اور خاص طور پر چھوٹی زبانیں بولنے والے افراد کو اپنی برادری میں اچھوتے خیالات پھیلانے کے یکساں مواقع فراہم کرتی ہے۔

اوپن-سورس رسائی وکیپیڈیا، لینکس اور موزیلا جیسی کامیاب حکمت عملیوں کی نقل کرتی ہے، جنہوں نے آزاد حل (اوپن سلوشنز) کی قوت اور قطعی بھروسے کو ثابت کیا ہے۔ عوامی سطح پر ترجمہ کاری دنیا بھر میں، وکیپیڈیا اور ہارورڈ کے برکمین سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ سوسائٹی میں گلوبل وائسز بلاگسمیت،  چند سائٹس پر بہت موثر ثابت ہوئی ہے۔

معیاری ترجمے کو یقینی بنانے کے لیے ٹی ای ڈی نے راہ نما اصولوں کا ایک مجموعہ اور نظام ترتیب دیا ہے تاکہ ترجمہ کاروں کو ممکنہ حد تک بہترین  کام کرنے کی سہولت دی جا سکے۔ آغاز کے لیے ہر گفتگو کے لیے ایک پیشہ ورانہ سطح پر تیار کردہ (اور مقرر سے منظور شدہ) انگریزی نقل فراہم کی گئی ہے، اس طرح تمام ترجمے یکساں دستاویزی ذریعہ کی بنیاد پر بنیں گے۔ اس کے بعد ٹی ای ڈی کو ضرورت ہوگی کہ شایع ہونے سے قبل؛ ہر ترجمہ اُس زبان کے ایک اور روانی سے بولنے والے کی نظر ثانی سے گزرے، ترجمہ کار اور نظر ثانی کرنے والے دونوں افراد کا نام سائٹ پر دیا جائے گا۔ ٹی ای ڈی حتمی “شایع” کرنے کے بٹن پر اختیار کا حامل ہوگا (کوئی ترجمہ خود کار طور پر شایع نہیں ہوگا) اور شایع ہونے کے بعد کمیونٹی اِن پٹ اور بہتری کی صورت میں فیڈ بیک میکنزم بھی موجود ہے۔

ٹی ای ڈی کے اوپن ٹرانسلیشن پروجیکٹ کے اجراء پر 40 سے زائد زبانوں، بشمول عربی، بنگالی، بلغارین، چینی، ڈینش، ڈچ، فنش، فرنچ، جرمن، یونانی، عبرانی، ہندی، ہنگرین، اطالوی، جاپانی، کنڑا، کرغز، کوریائی، نارویجین، فارسی، پولش، پرتگیزی، رومانین، روسی، ہسپانوی، سواحلی، سویڈش، تامل، تیلگو، تھائی، ترک، اردو اور ویت نامی، 300 سے زائد ترجمے موجود ہوں گے۔ ہمارے ترجمہ کار بیجنگ سے بیونس آئرس؛ طہران سے تل ابیب؛ اسپو، فن لینڈ سے بیرنکوئیلا، کولمبیا تک پھیلے شہروں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہر ٹی ای ڈی ٹاک کے لیے درست، قابل تلاش، انٹرایکٹو نقول

400 سے زائد ٹی ای ڈی کی تمام ٹاکس اب انگریزی اور تمام دستیاب زبانوں میں  ٹائم-کوڈڈ، انٹرایکٹو نقول کی حامل ہیں۔ اس انٹرایکٹو نقل کو استعمال کر کے ایک صارف کسی بھی جملے کا انتخاب کر سکتا ہے اور وڈیو کو عین اسی جگہ سے چلا سکتا ہے جہاں یہ جملہ بولا گیا ہے۔ یہ نقول سرچ انجنز کی جانب سے  –تمام زبانوں میں– مکمل قابلِ اشاریہ (انڈیکس ایبل) ہوں گی، جو ٹاکس کے اندر موجود ایسے مواد کو سامنے لائے گا جو اس سے قبل ناقابل رسائی تھا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی فرد گوگل پر “green roof” تلاش کرتا ہے تو وہ قطعی طور پر اس لمحے تک پہنچ جائے گا جب ماہر تعمیر ولیم میک ڈونو نے اپنی گفتگو میں فورڈ کے ریور روج پلانٹ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی تھی اور وہ ساؤتھ برونکس میں اپنے گرین روف پروجیکٹ کے حوالے سے گفتگو کرنے والی ماجورا کارٹر کی گفتگو تک بھی پہنچے گا۔

ٹی ای ڈی کے بارے میں

ٹی ای ڈی کا مطلوب ٹیکنالوجی، انٹرٹینمنٹ اور ڈیزائن ہے۔ اس کا آغاز 1984ء میں ایسی کانفرنس کے طور پر ہوا جو ان تینوں دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یکجا کرے۔ اس کے بعد سے اس کی وسعت میں اضافہ ہوتا گیا اور سائنس، کاروبار، فن اور دنیا بھر میں درپیش عالمی مسائل بھی اس کے دائرۂ کار میں آتے گئے۔ سالانہ کانفرنس اب دنیا کے معروف ترین مفکرین اور متحرک ترین افراد کو یکجا کرتی ہے جنہیں 18 منٹ میں اپنی زندگیوں کے بارے میں گفتگو کرنے کا چیلنج دیا جاتا ہے۔ شرکاء اسے “دماغ کا حتمی غسل” اور “مستقبل میں چار-روزہ سفر” قرار دیتے ہیں۔ مختلف قسم کے شرکاء میں سی ای اوز، سائنس دان، تخلیق کار اور انسان دوست شخصیات شامل ہوتی ہیں جو مقررین کی طرح خود بھی غیر معمولی ہوتے ہیں، اب تک شریک ہونے والے افراد میں بل کلنٹن، بل گیٹس، جین گوڈال، فرینک گییری، سر رچرڈ برانسن، فلپ اسٹارک، ایزابیل الینڈ اور بونو شامل ہیں۔

پہلی ٹی ای ڈی 1984ء میں مونٹیری، کیلیفورنیا  میں منعقد ہوئی۔ 2001ء میں کرس اینڈریسن کی سیپلنگ فاؤنڈیشن نے ٹی ای ڈی کو اس کے بانی رچرڈ سال وورمین سے حاصل کر لیا۔ حالیہ سالوں میں ٹی ای ڈی نے توسیع اختیار کرتے ہوئے بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد اور ٹی ای ڈی انعام مقرر کیا ہے اور TED.com پر ٹی ای ڈی ٹاکس کی مفت دستیابی کو ممکن بنایا ہے۔ TEDGlobal 2009 “نہ نظر آنے والی اشیا کا جوہر” (The Substance of Things Not Seen) 21 تا 24 جولائی 2009ء کو آکسفرڈ؛ برطانیہ میں منعقد ہوگی؛ ملاحظہ کیجیے  http://conferences.ted.com/TEDGlobal2009/۔ TEDIndia یکم سے 4 نومبر 2009ء کو میسور، بھارت میں منعقد ہوگی۔ TED2010 ” اب دنیا کو کیا ضرورت ہے” (What the World Needs Now) 9 سے 13 فروری 2010ء کو لانگ بیچ، کیلیفورنیا میں منعقد ہوگی ، جس کے ساتھ پام اسپرنگز، کیلیفورنیا میں نشریاتی ایونٹ ہوگا؛ ملاحظہ کیجیے http://conferences.ted.com/TED2010/۔ مستقبل قریب میں ہونے والی تمام کانفرنسز اور تقریبات کے بارے میں مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ کیجیے http://www.TED.com۔

رابطہ برائے ذرائع ابلاغ:

لارا گیلووے

گیلووے میڈیا گروپ

ٹیلی فون: (212) 260-3708

موبائل: (213) 948-3100

laura@gallowaymediagroup.com

 

ذریعہ: ٹی ای ڈی کانفرنسز

رابطہ: لارا گیلووے از گیلووے میڈیا گروپ برائے ٹی ای ڈی،

+1-212-260-3708

موبائل +1-213-948-3100

laura@gallowaymediagroup.com