کینیڈا میں سگ ماہیوں کا ظالمانہ قتل عام جاری

 

اٹاوا، 22 اپریل/ پی آر نیوز وائر – ایشیانیٹ/

ہیومین سوسائٹی نے 2009ء سگ ماہی شکار میں آبی جانوروں کے ضابطے کی کھلی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دی ہے

منگل کو ہیومین سوسائٹی (Humane Society International)انٹرنیشنل/کینیڈانے سینیٹر میک ہارب کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کینیڈا میں 2009ء کی تجارتی پیمانے پر سگ ماہی (سیل) کے قتل عام کی نئی فوٹیج (http://tinyurl.com/hsusseals)جاری کی ہے۔ میک ہارب پہلے کینیڈین رکنِ پارلیمان ہیں جو سگ ماہی کے شکار کے خاتمے کے لیے ایک بل پیش کرنے جا رہے ہیں۔ مبصرین نے بدترین ظلم کے متعدد مقدمات درج کرائے ہیں جن میں اس شکار کو کینیڈا کے آبی ممالیہ ضوابط (میرین میملز ریگولیشنز) کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

HIS کینیڈا کی ڈائریکٹر ریبیکا ایلڈورتھ نے کہا ہے کہ “رواں سال جو بے رحمانہ عمل ہم نے فلمایا ہے وہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ قتل عام ایک ظالمانہ اور سنگدلانہ قدم ہے جیسا کہ یہ ہمیشہ سے رہاہے۔ ہم نے کھلے پانیوں میں سگ ماہی کو گولیاں مارنے، تکلیف سے پانی سے باہر آنے والے سگ ماہیوں کو کاٹ پھینکنے، زخمی سگ ماہیوں کو برف پر تڑپتا چھوڑ دینے اور انہیں پانی کی سطح سے نیچے بھاگنے کے لیے چھوڑ دینے، تاکہ وہ ایک آہستہ و تکلیف دہ موت کا شکار ہوجائیں، کے مناظر فلمائے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت کینیڈا اجازت نامے واپس لے کر ان ظالمانہ اقدامات کا خاتمہ کر دے۔”

جانوروں کے ماہرین ماحولیاتی صورتحال اور جانوروں کو مارنے کی تیز رفتار کے باعث کینیڈا میں تجارتی پیمانے پر سگ ماہی کے قتل عام کو کئی مرتبہ بے رحمانہ قرار دے چکے ہیں۔

سینیٹر ہارب نے کہا کہ ” بھرپور کوششوں کے باوجود کینیڈین حکومت ایک تجارتی سرگرمی کو منظم نہیں کر سکی جو خطرناک ترین ماحول میں ایک انتہائی مختصر وقت میں کی جاتی ہے۔ تجارتی شکار کا بے ترتیبانہ انداز واضح کرتاہے کہ یہ کبھی بھی رحمدلانہ نہیں ہوگا، اور اس اقتصادی حقیقتوں کی صورت میں شکار کی ادا کردہ قیمت اور مارکیٹ میں سگ ماہی کی کھال سے تیار کردہ پشم کی فروخت کے لیے مارکیٹ کی کمی کے باعث یہ کام کبھی منافع بخش نہیں ہوگا۔ میں اپنی آنکھوں سے اس خطرناک صورتحال اور شکار کے بے رحمانہ و چونکادینے والے انداز کا مشاہدہ کر چکا ہوں۔ کینیڈین باشندوں کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ تجارتی پیمانے پر سگ ماہی کا شکار بند کر دینا چاہیے۔”

تجارتی پیمانے پر سگ ماہیوں کے قتل عام کی بڑھتی ہوئی مخالفت کے باعث دنیا بھر کے کئی ممالک نے سگ ماہیوں سے تیار کردہ مصنوعات کی تجارت ختم کردی ہے۔ طلب میں کمی ہونے کے باعث کھال کی قیمتیں اس سال کم ہو کر محض 15 کینیڈین ڈالرز رہ گئی ہیں – جو 2006ء کے مقابلے میں 86 فیصد تک کم ہیں۔ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر رعایتوں (سبسڈیز) کے باوجود سگ ماہیوں سے وابستہ صنعت نیو فاؤنڈ لینڈ اور لیبراڈور میں مجموعی مقامی پیداوار کا نصف فیصد اور نیو فاؤنڈ لینڈ میں ماہی گیری کی کل قدر کے 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ سگ ماہیوں کا شکار پیشہ ور ماہی گیر کرتے ہیں جو اوسطاً اپنی سالانہ آمدنی کا پانچ فیصد سے بھی کم ہی سگ ماہیوں کے شکار سے حاصل کرتے ہیں۔

میڈیا کے لیے پیش کردہ وڈیو(http://tinyurl.com/hsusseals) ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ہے۔

ہیومین سوسائٹی انٹرنیشنل/کینیڈا جانوروں کے تحفظ کے لیے ایک معروف قوت ہے، جو ملک بھر میں لاکھوں اراکین اور رائے دہندگان کی نمائندہ ہے۔ ایچ ایس آئی/کینیڈا انسان دوست جانوروں، جنگلی حیات اور ان کی قیام گاہوں کی حفاظت، آبی ممالیاؤں کے تحفظ اور پالتو جانوروں کی بہبود کے لیے متحرک پروگرامز کا حامل ہے۔ ایچ ایس آئی/کینیڈا ہیومین سوسائٹی انٹرنیشنل کا حصہ ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ ہیومین سوسائٹی انٹرنیشنل جانوروں کے تحفظ کی دنیا کی سب سے بڑی انجمن ہے جس کے ویب پر hsicanada.ca  پر دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زائد اراکین اور رائے دہندگان ہیں۔

ذریعہ: ہیومین سوسائٹی انٹرنیشنل/کینیڈا

رابطہ: کیمیل لیبچوک،+1-613-252-4570، clabchuk@hsi.org یا

ہیدر سلیوان، +1-301-548-7778، hsullivan@humanesociety.org

دونوں برائے ہیومین سوسائٹی انٹرنیشنل/کینیڈا