اخروٹ اور مچھلی امراض قلب کے خلاف مختلف طریقوں سے تحفظ دیتے ہیں، لوما لنڈا یونیورسٹی کی شائع شدہ نئی تحقیق

 

لوما لنڈا، کیلی فورنیا، 13 اپریل/ پی آر نیوز وائر – ایشیا نیٹ/

حال ہی میں امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی لوما لنڈا یونیورسٹی کی تحقیق امراض قلب سے نمٹنے کے لیے اخروٹوں اور فربہ مچھلی کے اثرات کا موازنہ کرتی ہے، یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ اخروٹ صحت مند افراد میں مچھلی کے مقابلے میں زیادہ کولیسٹرول کم کرتے ہیں، جبکہ فربہ مچھلی ٹرائی گلیسرائیڈز کو کم کرتی ہے۔ دونوں شریانی امراض قلب کے مجموعی خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔

لوما لنڈا یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ میں شعبہ غذائیت (ڈپارٹمنٹ آف نیوٹریشن) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور تحقیق کے اہم ترین مصنف سجاتھا راجا رام، پی ایچ ڈی، نے کہا کہ “تحقیق کی عملی اہمیت یہ ہے کہ اخروٹوں اور فربہ مچھلیوں کی اتنی مقدار کا استعمال، جو طبیعت پر گراں نہ گزرے، صحت مند افراد تک کے خون میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسٹرائیڈ کی مقدار میں واضح کمی کا سبب بن سکتی ہے۔”

فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی جانب سے سند یافتہ دعوائے صحت کے اجراء کے بعد محققین کو معلوم ہوا کہ تقریبا 1.5 اونس اخروٹ (42 گرام، ثابت اخروٹ کی مٹھی یا کٹے ہوئے اخروٹوں کے تین چائے کے چمچوں) کا روزانہ استعمال یو ایس ڈی اے کی سفارشات کے مطابق غذائی ضابطہ کے مقابلے میں انسانی رطوبت کے کل کولیسٹرول میں 5.4 فیصد اور ایل ڈی ایل (خراب) کولیسٹرول میں 9.3 فیصد کمی لاتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے رہنما اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محققین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر ہفتے فربہ مچھلی کا دو مرتبہ استعمال (جو امراض قلب سے بچے ہوئے افراد کے لیے اے ایچ اے کے سفارشات کے مطابق اندازا چار اونس ہر مرتبہ ہوتا ہے) ٹرائی گلیسٹرائیڈ کی سطح میں 11.4 فیصد کمی لاتا ہے۔ مزید برآں یہ ایچ ڈي ایل (اچھے) کولیسٹرول میں 4 فیصد اضافہ کرتا ہے، لیکن ساتھ ساتھ غذائی ضابطہ کے تقابل میں ایل ڈی ایل (خراب) کولیسٹرول میں معمولی اضافہ بھی کرتا ہے۔ اس تحقیق میں سالمن مچھلی استعمال کی گئي۔

اس تحقیق میں شامل افراد میں سے ایک اور شعبہ غذائیت کے یوان سابیٹ ایم ڈی، DrPH، کہتے ہیں کہ “پودوں اور پانی دونوں سے نکلنے والا اومیگا3 امراض قلب سے حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں جبکہ وہ خطرے کے مختلف عوامل کو کم کرنے کے حوالے سے بھی موثر ہوتے ہیں، تاہم یہ ضروری ہوگا کہ دونوں کو اپنی غذا کا حصہ بنانے میں محتاط رہا جائے۔”

ڈاکٹر راجا رام مزید کہتے ہیں کہ “عام افراد کو اپنے کھانوں میں اومیگا-3 چکنائی کے نباتاتی ذریعے، جیسے اخروٹ، کے ساتھ آبی ذریعے کی اومیگا-3 چکنائی کو بھی شامل کرنے چاہیے۔ اگر آبی اومیگا-3 چکنائی کے لیے فربہ مچھلی ترجیح نہ ہو تو دیگر اختیارات میں مائیکرو ایلجی تیل یا ڈی ایچ اے-سے بھرپور انڈے ہو سکتے ہیں۔”

شعبہ غذائیت مختلف قسم کے افراد میں سخت ضابطے کی غذائی تحقیق کرنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ صحت مند افراد میں کی گئي یہ تحقیق اخروٹوں کی صحت بخشی و غذائی خصوصیات کو جانچنے کے لیے کی گئي پانچویں تحقیق ہے۔ یہ تحقیق گزشتہ تحقیقوں کے مقابلے میں مختلف ہے کیونکہ اس میں اومیگا-3 فربہ ترشوں کے نباتاتی وسائل کا آبی ذرائع سے موازنہ کیا گیا ہے، یہ موازنہ کرنے والی یہ پہلی تحقیق ہے۔ زیر تحقیق افراد کو 24 ہفتوں سے زائد کے غذائی جدول میں تصادفی طور پر آٹھ آٹھ ہفتوں تک تین اقسام کی غذاؤں پر رکھا گیا۔ اس طریقے نےمحققین کو ہر غذا کے شریک افراد پر اثرات کا موازنہ کرنے کا موقع دیا۔

لوما لنڈا یونیورسٹی جنوبی کیلی فورنیا کی ایک ہیلتھ-سائنس جامعہ ہے جو خطرناک امراض سے حوالے سے غذائی اور طرز زندگی پر تحقیق کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ جامعہ کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ویب سائٹ www.llu.edu  ملاحظہ کیجیے۔ امریکن جرنل آف کلینکل نیوٹریشن کے مسودے تک رسائی کے لیے انٹرنیٹ پر حوالہ doi: 10.3945/ajcn.2009.26736S دیں۔

(لوگو: http://www.newscom.com/cgi-bin/prnh/20090413/SF97366LOGO)

 

ذریعہ: لوما لنڈا یونیورسٹی

رابطہ: ہیتھر رائف سنائیڈر

+1-909-558-1000، ایکسٹینشن 42932

hreifsnyder@llu.edu

 

کیلی ٹوڈ، ایم ایس، آر ڈی

+1-415-956-1791

+1-847-732-5878

kaley@torme.com

برائے لوما لنڈا یونیورسٹی

 

تصویر: http://www.newscom.com/cgi-bin/prnh/20090413/SF97366LOGO